SOURCE :- BBC NEWS

ایلون مسک، ایرول مسک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

  • مصنف, ماریا جیوسٹافجیوا
  • عہدہ, بی بی سی رشیئن
  • ایک گھنٹہ قبل

ایلون مسک دنیا کے سب سے امیر شخص ہیں، وہ اچھے تعلقات رکھنے والے ٹیک انٹرپرینیور ہیں جن کو سیاسی طاقت کے حامل اعلیٰ ترین عہدوں تک غیر معمولی رسائی ہے۔

بی بی سی نے ایرول مسک سے بات کی تاکہ ان کے بیٹے ایلون مسک کے بچپن کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ انھوں نے اس شخص کی پرورش کیسے کی جنھیں کچھ لوگ ’غیر سرکاری امریکی صدر‘ کہتے ہیں۔

اپنے با اثر بیٹے کے ساتھ اپنی آخری بات چیت کے بارے میں بتاتے ہوئے ایرول کہتے ہیں کہ ’انھوں نے مجھے دو انجن والے طیارے کے لیے کچھ پیسے بھیجے تھے جسے میں خریدنا چاہتا ہوں۔‘

’میرے پاس کچھ پیسے کم پڑ گئے تھے اس لیے انھوں نے مجھے کچھ پیسے بھیجے تاکہ میں اسے خرید سکوں۔ تو میں نے صرف ان کا شکریہ ادا کیا۔‘

ایلون مسک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہ کہتے ہیں کہ یہ گفتگو ہمارے انٹرویو سے ایک دن پہلے ہوئی تھی۔

ایرول مسک نے کیپ ٹاؤن کے قریب اپنے ساحلی ولا سے زوم کے ذریعے مجھ سے بات کی، وہ پرسکون اور پراعتماد دکھائی دے رہے تھے۔

میں نے چند ہفتے پہلے ایلون کے بچپن کے بارے میں ایک انٹرویو کے لیے ان سے رابطہ کیا تھا اور اگلے ہی دن انھوں نے جواب دیا کہ ’ٹھیک ہے۔‘

جنوبی افریقہ کے دارالحکومت پریٹوریا میں سنہ 1971 میں پیدا ہونے والے ایلون کی پرورش ان کے انجینیئر والد اور والدہ مے، جو ماڈل تھیں، نے کی تھی۔

اپنے والدین کی طلاق کے بعد سنہ 1989 میں کینیڈا منتقل ہونے سے پہلے ایلون مسک جنوبی افریقہ میں اپنے والد ایرول کے ساتھ رہتے تھے۔

ایرول کے مطابق ایلون ’بہت اچھے، پریشانی سے پاک لڑکے تھے جنھیں ہمیشہ وہی ملتا، جو وہ چاہتے تھے۔‘

ایرول کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سے جانتے تھے کہ ان کا بیٹا اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک کہ وہ ’نمبر ون‘ نہیں بن جاتا۔

آج ایلون مسک ٹیسلا، سپیس ایکس اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر جو اب ان کے اے آئی سٹارٹ اپ کے ساتھ ضم ہو گیا ہے) چلاتے ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل نے فروری میں ان کی دولت کا تخمینہ 419.4 ارب ڈالر لگایا۔

وہ امریکی صدر کے سب سے زیادہ نظر آنے والے مشیروں میں سے ایک اور نو تشکیل شدہ ڈیپارٹمنٹ فار گورنمنٹ ایفیشینسی (ڈی او جی ای) کے سربراہ بھی بن گئے ہیں۔

ایرول مسک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بڑھتے درد

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایلون کا اپنے والد کے ساتھ رشتہ طویل عرصے سے پیچیدہ رہا اور انھوں نے اپنے سوانح نگار ایشلے وینس کو بتایا کہ ان کا بچپن تکلیف دہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سکول میں گینگز ان کا پیچھا کیا کرتے تھے۔ جب وہ گھر آتے تو یہاں بھی ماحول خوفناک ہوتا۔‘

ایک اور سوانح حیات میں ایلون کے بھائی کِمبل نے والٹر آئزکسن کو بتایا کہ ان کے والد نے بچپن میں ان کے ساتھ زبانی بدسلوکی کی۔

’وہ چیختے، گھنٹوں لیکچر دیتے، ہمیں بیکار، قابل رحم کہتے اور برے تبصرے کر تے۔‘

سنہ 2017 کے ایک انٹرویو میں ایلون نے اپنے والد کو ’ایک خوفناک انسان‘ کہا تھا لیکن ایرول کا کہنا ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ انھوں نے ایسا کیوں کہا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں اب اس سے اکثر بات کرتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وقت آنے پر وہ معذرت کر لیں گے۔‘

وہ کہتے ہیں ’یاد رکھیں کہ لڑکے بھی کسی حد تک اپنے والد کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں۔‘

ایرول تسلیم کرتے ہیں کہ فوج میں ان کی خدمات نے انھیں متاثر کیا۔

وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ ’آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ ایک خول کے نیچے ہیں اور آپ کو اوپر جانے کے لیے محنت کرنی ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ مضبوط مرد بنتے ہیں۔‘

مے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایرول اور ایلون میں بہت کچھ مشترک ہے: دونوں کاروباری افراد ہیں، دونوں کو متنازع شخصیات سمجھا جاتا ہے اور دونوں کے بہت سے بچے ہیں۔ ایرول کی سات اولادیں ہیں جبکہ ایلون کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے 14 بچے ہیں۔

ایرول نے اپنے بیٹے پر تنقید کی کہ وہ کام کی وجہ سے ان میں سے کچھ کو نظر انداز کر رہے ہیں لیکن وہ اصرار کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے تمام بچوں پر یکساں توجہ دینے کی کوشش کی۔

تاہم انٹرویو کے دوران خود ایرول کچھ دیر کے لیے اپنے بچوں میں سے اپنی چوتھی بیٹی کو بھول گئے، جس کی ماں ان کی سابقہ سوتیلی بیٹی جانا بیزوئیڈنہوت ہیں۔

جانا چار سال کی عمر میں اس وقت مسک خاندان میں آئیں جب ایرول نے جانا کی والدہ ہیڈی سے شادی کی۔

مجھے تعجب ہوا جب ایرول نے پہلے کہا کہ ان کی تین بیٹیاں ہیں لیکن جلد ہی انھوں نے اپنی تصحیح کر لی۔

اس کے بعد انھوں نے عجیب انداز میں ہنستے ہوئے مزید کہا کہ وہ ’اس‘ (چوتھی بیٹی) کے بارے میں بھول جاتے ہیں۔

جانا اور ایرول کا پہلا بچہ اس وقت پیدا ہوا جب وہ تقریباً 30 سال کی تھیں اور ایرول کی عمر 70 سال سے زیادہ تھی۔

اس کے بعد ان کا دوسرا بچہ پیدا ہوا لیکن اب وہ ایک ساتھ نہیں۔

مبینہ طور پر ان کے تعلقات کی وجہ سے ایرول اور ایلون کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے تھے حالانکہ ایرول کا کہنا ہے کہ ان میں دوبارہ بول چال شروع ہو گئی ہے۔

ایلون مسک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سیاست اور توہین

میں نے ایرول کو اس وقت کی یاد دلائی جب ایلون نے پولینڈ کے وزیر خارجہ کی کھلے عام توہین کی تھی اور انھیں ’چھوٹا آدمی‘ کہا تھا۔

جب وہ اپنے بیٹے کو سرعام لوگوں کو ناراض کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو کیا وہ فکرمند ہوتے ہیں؟

ایرول کا کہنا ہے کہ ’میں ایلون یا کسی بھی اولاد کے ہر اس لفظ کے بارے میں بہت فکرمند ہوں جس سے مجھے ڈر ہو کہ وہ کہیں خود کو مشکل میں نہ ڈال دیں۔‘

ایرول یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جب وہ بہت چھوٹے تھے تو میں ان سے کہا کرتا تھا کہ آپ بڑوں کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ احمق ہیں اور وہ کہتے کہ کیوں؟ وہ احمق تو ہیں اور میں کہتا ہاں، وہ احمق ہیں لیکن آپ انھیں یہ نہیں بتا سکتے۔‘

لیکن ایرول کا ماننا ہے کہ سیاست کی دنیا میں زیادہ آزادی ہے۔ ’لوگ ایک دن ایک دوسرے کو برا بھلا کہیں گے اور پھر اگلے دن وہ اتحاد بنائیں گے۔‘

اقتدار کی راہداریوں میں ایلون کے واضح اثر و رسوخ کے باوجود ایرول کا ماننا ہے کہ ان کا بیٹا سیاست کے لیے موزوں نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مسک ایک تکنیکی شخص ہیں۔ ٹیک لوگ چاہتے ہیں کہ چیزیں سمجھ میں آئیں۔‘

’ایلون کو ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔ آپ کو شاید ایسے لوگوں کے ساتھ بھی کام کرنا پڑے جو مشہور ہیں لیکن وہ پورے کے پورے احمق ہو سکتے ہیں۔‘

لیکن تمام سیاست دانوں کے بارے میں ایرول کی یہ رائے نہیں، کچھ ایسے بھی ہیں جن کی وہ اور ان کا خاندان تعریف کرتے ہیں خاص طور پر روسی صدر ولادیمیر پوتن۔

ایرول کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ پوتن کو صرف ایک شخص کے طور پر دیکھیں، نہ کہ بین الاقوامی سیاست کے تناظر میں، تو مشکل ہے کہ آپ ان کا احترام نہ کریں۔‘

’وہ ناقابل یقین حد تک اچھی طرح بات کرتے ہیں۔ پوتن سے تھوڑا سا بھی خوفزدہ نہ ہونا بہت مشکل ہے۔‘

جب میں نے پوچھا کہ کیا ایلون مسک بھی اس نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہیں تو ایرول نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ایسا کرتے ہیں۔

جب میں نے یوکرین پر پوتن کے حملے کا ذکر کیا تو روس کی جارحیت کے واضح ثبوت کے باوجود ایرول نے زور دے کر کہا کہ ’صرف وقت ہی بتائے گا کہ ، یہ کس نے شروع کیا تھا۔‘

ایلون مسک، ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انٹرویو کے دوران مجھے کچھ چیزوں پر ہنسی آئی اور کچھ نے حیران کیا زیادہ تر اس وقت جب میں نے ان کے سیاسی نظریات کو چیلنج کیا۔

ایرول کا خیال ہے کہ جنگ کے آغاز میں یوکرین کو سٹار لنک فراہم کرنا صحیح فیصلہ تھا لیکن جیسے جیسے تنازع آگے بڑھتا گیا ایلون کے خیالات تبدیل ہو گئے۔

وہ ان دعووں کو مسترد کرتے ہیں کہ ایلون کے رویے میں تبدیلی مالی مفادات کی وجہ سے ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے خاندان کے پاس سب کچھ ہے، ہمیں مزید پیسے کی ضرورت نہیں۔‘

ایک کشادہ کمرے سے مجھ سے بات کرتے ہوئے جس کے پس منظر میں بلیئرڈ کی میز بھی تھی، وہ بہت متحرک ہو گئے انھوں نے کئی بار دہرایا کہ ’ہمارے پاس سب کچھ ہے۔‘

انٹرویو کے اختتام پر میں نے ایرول سے پوچھا کہ لوگ ایلون کے بارے میں کیا نہیں جانتے ہیں۔

ایرول کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے عوام کے سامنے اعتماد سے بات نہیں کر سکتے۔ ’انھیں شرم آتی ہے۔ انھیں اب بھی بھیڑ کے سامنے سٹیج پر رہنا سیکھنا پڑ رہا ہے۔‘

ایرول کہتے ہیں ‘انھیں جو کچھ بھی کہنا ہوتا ہے، وہ بس جلدی سے کہہ دیتے ہیں۔‘

SOURCE : BBC