SOURCE :- BBC NEWS

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی
-
ایک گھنٹہ قبل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دنیا کے متعدد ممالک پر امریکہ کو برآمدات کی جانے والی اشیا پر نئے ٹیرف (ٹیکس) کے نفاذ کے اعلان نے دنیا بھر کی منڈیوں میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔
امریکی سٹاک مارکیٹ سے لے کر یورپی و ایشیائی سٹاک مارکیٹس اس فیصلے کے بعد سے مندی کا رجحان دکھا رہی ہیں۔
گذشتہ دو روز کے دوران امریکی سٹاک مارکیٹ میں ڈوجونز انڈیکس، نیسڈیک اور ایس اینڈ پی میں مسلسل گراؤٹ جاری ہے۔ اسی طرح ایشیائی سٹاک مارکیٹس میں میجر انڈیکسز میں بھی مندی کا رحجان ریکارڈ کیا گیا۔
ہانگ کانگ کی ہانگ سنگ انڈیکس، شنگھائی انڈیکس یا ٹوکیو می سب کی سب اس فیصلے کے بعد مسلسل مندی کے رجحان کی زد میں ہیں۔
دنیا میں جاری تجارتی جنگ میں چین کی جانب سے بھی امریکی مصنوعات پر 34 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے بعد بدھ سے جمعے تک عالمی منڈیوں سے کھربوں ڈالر غائب ہو چکے ہیں۔
عالمی معاشی تجزیہ کار اس صورتحال کو عالمی تجارت کے لیے نہ صرف انتہائی تشویشناک بلکہ ’تباہ کن‘ قرار دے رہے ہیں۔
مالیاتی کمپنی اے جے بیل سے منسلک ڈین کوٹس ورتھ کا کہنا ہے کہ ’ٹرمپ کی ’یوم آزادی‘ کی تقریر کے بعد سے اب تک عالمی سٹاک مارکیٹ کی قدر میں 4.9 کھرب ڈالرز کی کمی دیکھی گئی۔‘

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وال سٹریٹ بینکنگ کمپنی جے پی مورگن نے کہا ہے کہ اب اسے سال کے آخر تک عالمی معیشت کے کساد بازاری میں داخل ہونے کا 60 فیصد امکان نظر آتا ہے۔
مگر اس سب کے درمیان پاکستان کی چھوٹی سی سٹاک مارکیٹ میں جمعے کو تیزی دیکھنے میں آئی اور کاروبار کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج کی ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 20 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی عبور کر گئی۔
اگر ٹرمپ کے ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کو دیکھا جائے تو پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا کیونکہ انھوں نے پاکستان کی امریکہ میں کی جانے والی برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا کہا۔
امریکہ کی جانب سے پاکستان پر نئے ٹیرف کا نفاذ ایک ایسے وقت میں ہوا، جب پاکستان کی معیشت پہلے ہی متعدد مسائل کا شکار ہے۔
بدھ کو ٹرمپ کے ٹیرف کے فیصلے کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کمپنی ’ایپل‘ کے حصص کو کووڈ کے بعد سے بدترین کاروباری رجحان کا سامنا کرنا پڑا اور مجموعی طور پر اس کی قدر میں کم از کم نو فیصد کمی ہوئی اور اس کی مارکیٹ کیپ سے 310 ارب ڈالرز کی کمی ہوئی۔
دوسری جانب عید کی چھٹیوں سے قبل پاکستان سٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے ایک حصص کی قیمت 410 روپے تھی لیکن جمعرات کے روز کاروبار کے اختتام پر اس کی قیمت 444 روپے فی حصص پر بند ہوئی۔ جمعے کے روز بھی اس کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا اور اس کی قیمت کاروبار کے اختتام پر 482 روپے فی حصص پر بند ہوئی۔
آخر پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں بہتری کی وجوہات کیا ہیں؟ کیا واقعی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کو امریکی عائد کردہ ٹیرف سے کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا اور کیا یہ تیزی صرف مقامی معاشی صورتحال کے باعث ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی منڈیوں میں مندی کے باوجود پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کیوں؟
ماہرین کے مطابق پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی کے رجحان کی وجہ عالمی معاشی منظر نامہ نہیں بلکہ حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمت میں کمی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں کمی معیشت کے شعبے کے لیے اچھی خبر ہے جس کا اثر سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر مثبت انداز میں ہوا۔
کیپیٹل مارکیٹ کے تجزیہ کار نبیل ہارون نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ پاکستان کی مارکیٹ میں بہتری کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے پاور ٹیرف میں کمی کا اعلان ہے جو معیشت کے لیے بہتر ہے۔
انھوں نے کہا کہ انڈسٹری کے لیے بھی قیمت کم ہوئی جس سے گروتھ بڑھنے کا امکان ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسی طرح مہنگائی کم ہونے کے اعداد و شمار جاری کیے گیے اور ماہانہ بنیادوں پر تجارتی خسارہ کم ہوا۔
حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کو پانچ سال میں ختم کرنے کے اعلان کی توقع نے بھی مارکیٹ کو سپورٹ کیا۔
نبیل ہارون کا کہنا ہے کہ ان تمام عوامل نے پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار میں اضافے کو سپورٹ کیا۔
تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ملک میں بجلی کی قیمت کی کمی نے سٹاک ایکسچینج میں تیزی کو فروغ دیا تو اس کے ساتھ مارچ کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں کمی بھی معیشت کے لیے مثبت پیشرفت ہے جس نے کاروبار میں مثبت رجحان کو فروغ دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا پاکستان سٹاک مارکیٹ کو چند افراد اور گروپس کنٹرول کرتے ہیں؟
دنیا کی سٹاک مارکیٹ کے مقابلے میں پاکستانی سٹاک ایکسچینج میں اضافے کے بعد ایک تاثر ہے کہ یہ معاشی اصولوں کی بجائے چند افراد اور گروپوں کے ذریعے چلائی جاتی ہے جو اس میں تیزی اور مندی لاتے ہیں۔
اس تاثر کے بارے میں مالیاتی امور کے ماہر راشد مسعود عالم کا کہنا ہے کہ کسی حد تک یہ تاثر درست ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان سٹاک ایکسچینج کو کاروبار کے معاشی اصولوں اور پیش رفت کی بجائے چند افراد کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا یہ مکمل طور پر تو نہیں لیکن جزوی طور پر ہوتا ہے جس میں بڑے بروکرز شامل ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق بڑے کاروباری ادارے اس میں براہ راست مداخلت نہیں کرتے تاہم ان ڈائریکٹ طریقے سے وہ اس میں ملوث ہوتے ہیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو شاہد علی حبیب تاہم اس تاثر کی نفی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے پاکستان سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی بیس بہت بڑی ہے اور یہ چند ہاتھوں کی بجائے بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے جس میں ایسٹ منیجمینٹ کمپنیاں، بینک، انشورنس کمپنیاں، ہائی نیٹ افراد اور غیر ملکی سرمایہ کار شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ چند افراد یا گروپ اس کو کنٹرول کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں موجودہ تیزی کی وجہ معاشی ہے۔
’جب حکومت نے پاور ٹیرف کم کیا تو اس کا اثر انڈسٹری کی اچھی کمائی کی صورت میں ہوگا جبکہ دوسری جانب امریکی ٹیرف میں اضافہ صرف پاکستان کے لیے نہیں۔‘
کیا امریکی ٹیرف کا اثر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ٹیکسٹائل کمپنیوں پر ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان سے امریکہ میں کی جانے والی سب سے بڑی برآمد ٹیکسٹائل اشیا کی ہے۔ امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے بعد کیا پاکستان سٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنیوں کی برآمدات متاثر ہوں گی؟
ماہرین کی رائے میں ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف نے عالمی منڈیوں کو یقیناً زیادہ متاثر کیا تاہم پاکستان سٹاک مارکیٹ پر اس کا اثر معمولی ہے۔
اس کے بارے میں نبیل ہارون نے بتایا کہ جو ٹیرف بڑھا وہ سب کے لیے بڑھا۔ ٹیکسٹائل میں ہمارے مقابلے میں دوسرے ممالک انڈیا، ویتنام اور بنگلہ دیش ہیں۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ نے بنگلہ دیش اور ویتنام پر پاکستان سے زیادہ ٹیرف لگایا جبکہ انڈیا کے ٹیرف کی شرح کم ہے۔
’اس کا مطلب ہے کہ انڈیا کے علاوہ بنگلہ دیش اور ویتنام کے مقابلے میں پاکستان کو فائدہ ہوا۔‘
نبیل ہارون کہتے ہیں کہ اگر اس کا اثر آئے گا تو وہ بھی کمپنی سے کمپنی مختلف ہوگا اور یہ اثر بہت بڑا نہیں ہو گا کہ جس سے سٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ٹیکسٹائل کمپنیوں کی گروتھ پر منفی اثر ہو۔
SOURCE : BBC