SOURCE :- BBC NEWS

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سید معیز امام
- عہدہ, بی بی سی، لکھنؤ
-
2 گھنٹے قبل
انڈیا کی لوک سبھا کے بعد راجیہ سبھا سے بھی وقف ترمیمی بل منظور ہو گیا ہے۔ اس بل کا نام یونائیٹڈ وقف مینجمنٹ ایمپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1995 ہے۔
نیا بل 1995 کے وقف ایکٹ میں ترمیم کے لیے لایا گیا ہے۔
نئے بل کی شق کے مطابق صرف وہی شخص زمین عطیہ کر سکتا ہے جو مسلسل پانچ سال تک مسلمان رہا ہو اور عطیہ کی جانے والی جائیداد اس کی اپنی ملکیت ہو۔
نئے بل میں سروے کرانے کا حق وقف کمشنر کے بجائے کلکٹر کو دیا گیا ہے۔
حکومت کے قبضے میں وقف املاک سے متعلق تنازعے میں کلکٹر کا فیصلہ موثر مانا جائے گا۔ اس بل کے مطابق وقف ٹریبونل کے فیصلے کو حتمی نہیں سمجھا جائے گا۔
حکومت کیا کہتی ہے؟
ان تمام دفعات پر مسلم تنظیموں اور اپوزیشن کے اعتراضات کے باوجود یہ ترمیمی بل لوک سبھا میں پاس ہو گیا ہے۔ اپوزیشن نے اس بل کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا، ’یہ آئین پر حملہ ہے۔ آج مسلمان نشانے پر ہیں، کل کوئی اور برادری نشانہ بن سکتی ہے۔‘
تاہم کئی مسلم تنظیمیں اس نئے ترمیم شدہ قانون کو چیلنج کرنے کی حکمت عملی بنا رہی ہیں۔
وقف ترمیمی بل پر سپریم کورٹ کے وکیل فضل احمد ایوبی کا کہنا ہے کہ وقف اراضی حکومت کی نہیں بلکہ عطیہ کی گئی اراضی ہے جو لوگوں نے اپنی جائیداد سے دی کی تھی لیکن حکومت ایسا کر رہی ہے جیسے وقف نے سرکاری زمین پر قبضہ کر لیا ہو۔
لوک سبھا میں اس بل پر بحث کے دوران وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپوزیشن پر الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر ارکان کے ذہنوں میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں اور انھیں پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘
’کچھ لوگ یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ یہ ایکٹ مسلم کمیونٹی کے مذہبی حقوق اور املاک میں مداخلت کرے گا۔ یہ مکمل طور پر غلط ہے اور اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے کی محض ایک سازش ہے تاکہ انھیں ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وقف کیا ہے؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وقف ایکٹ میں دو طرح کی جائیداد کا ذکر ہے۔ پہلا وقف اللہ کے نام پر ہے، یعنی ایسی جائیداد جو اللہ کے لیے وقف کی گئی ہو اور جس پر میراث کا کوئی حق باقی نہ ہو۔
وقف کی دوسری قسم میں ایسی وقف جائیداد ہے جس کی دیکھ بھال ورثا کریں گے۔
اس دوسری قسم کے وقف سے متعلق نئے بل میں انتظام کیا گیا ہے۔ اس سے خواتین کا وراثت کا حق نہیں چھیننا چاہیے۔
ایک بار جب ایسی عطیہ کی گئی جائیداد وقف کے کھاتے میں آجائے تو ضلع کلکٹر اسے بیوہ خواتین یا ایسے بچوں کی بہبود کے لیے استعمال کر سکے گا جن کے والدین نہیں۔
وقف کوئی بھی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد ہے جو کسی بھی شخص کی طرف سے اللہ کے نام پر یا مذہبی یا خیراتی مقاصد کے لیے عطیہ کی جاتی ہے۔
یہ جائیداد فلاح و بہبود کے لیے معاشرے کی ملکیت بن جاتی ہے اور اللہ کے سوا کوئی اس کا مالک نہیں ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔
وقف ویلفیئر فورم کے چیئرمین جاوید احمد کا کہنا ہے کہ ’وقف عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے قیام کرنا۔ جب کوئی جائیداد اللہ کے نام پر وقف کی جاتی ہے تو وہ ہمیشہ کے لیے اللہ کے نام ہو جاتی ہے۔ پھر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔‘
انڈیا کی سپریم کورٹ نے جنوری 1998 میں دیے گئے اپنے ایک فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ ‘ایک بار جب کوئی جائیداد وقف ہو جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے وقف رہتی ہے۔‘
وقف املاک کی خرید و فروخت نہیں کی جا سکتی ہے اور نہ ہی انھیں کسی کو منتقل کیا جا سکتا ہے۔
اس بل کے حق میں بات کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم جماعت کے قومی صدر مولانا مفتی شہاب الدین رضوی بریلوی نے کہا، ’اس ترمیم کے ذریعے، مرکزی حکومت وقف بورڈ کی جائیداد کے معاملے میں من مانی کو روک دے گی۔ اس سے لینڈ مافیا کے ساتھ مل کر وقف املاک کو بیچنے یا لیز پر دینے کے کاروبار پر روک لگ جائے گی۔‘
تاہم بدھ کو لوک سبھا میں اس بل پر بحث کے دوران حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔
کانگریس، ایس پی، ٹی ایم سی سمیت ہندوستانی اتحاد کی جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی۔ جبکہ بی جے پی کی حلیف جے ڈی یو اور ٹی ڈی پی نے اس بل کی حمایت کی۔
لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے کرن رجیجو نے کہا تھا کہ حکومت مساجد کے انتظام یا مذہبی سرگرمیوں میں مداخلت نہیں کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وقف کے پاس کتنی زمین ہے؟
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، وقف کے پاس تقریباً 9.4 لاکھ ایکڑ اراضی ہے۔
اگر ہم اس کا موازنہ وزارت دفاع اور ریلوے سے کریں تو یہ وقف اراضی کے معاملے میں انڈیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔
وزارت دفاع کے پاس 17.95 لاکھ ایکڑ اراضی ہے جبکہ ریلوے کے پاس تقریباً 12 لاکھ ایکڑ اراضی ہے۔
اتنی زمین کا رقبہ کچھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے زیادہ ہے اور کل رقبہ 9.14 لاکھ ایکڑ (3702 مربع کلومیٹر) ہے۔
دارالحکومت دہلی کا کل رقبہ 3.66 لاکھ ایکڑ (1484 مربع کلومیٹر) ہے۔
دادرا نگر حویلی کا مرکزی علاقہ 1.21 لاکھ ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے، جبکہ چندی گڑھ کا رقبہ تقریباً 28000 ایکڑ ہے۔
شیعہ مذہبی رہنما کلبِ جواد کے مطابق وقف جائیداد کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔
وہ سوال کرتے ہیں کہ اس کا اطلاق کہیں اور کیوں نہیں ہوتا۔
وہ کہتے ہیں، ’کئی مندروں میں سونے کے ذخائر ہیں، اگر یہ سونا ریزرو بینک میں چلا جائے تو ڈالر کی قیمت روپے کے برابر ہو جائے گی۔ کیا حکومت ایسا کام کر سکتی ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کس ریاست میں کتنی وقف جائیدادیں ہیں؟
وامسی پورٹل کے مطابق وقف کی 8,72,324 غیر منقولہ جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی اور 16,713 منقولہ جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں سے 97 فیصد جائیدادیں صرف 15 ریاستوں میں ہیں۔
وامسی پورٹل کے مطابق، 58,890 پر تجاوزات ہیں، جبکہ 4,36,179 کے بارے میں سائٹ پر کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 13,000 جائیدادوں پر قانونی چارہ جوئی جاری ہے۔
اس پورٹل کے مطابق کل وقف املاک میں سے صرف 39 فیصد بغیر کسی تنازع کے ہیں۔
دہلی میں، تقریباً 123 وقف املاک کو مرکزی حکومت نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جنھیں یو پی اے حکومت نے وقف کو واپس کر دیا تھا۔ اس حوالے سے تنازع جاری ہے۔
نو فروری 2022 کے اقلیتی امور کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق اتر پردیش میں تقریباً 2,15,000 وقف جائیدادیں تھیں، جب کہ مغربی بنگال میں تقریباً 80,480 وقف جائیدادیں، آندھرا پردیش میں 10,708، گجرات میں 30,881 جائیدادیں ہیں۔ بہار میں اس کی تقریباً 8,600 جائیدادیں ہیں۔
تاہم 2025 میں ان اعداد و شمار میں اضافہ ہوا ہے۔ اب صرف اتر پردیش میں 2,32,000 وقف جائیدادیں ہیں۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ وقف جائیداد قبرستانوں کے نام پر رجسٹرڈ ہے، جو تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے۔ مساجد کے 1.19 لاکھ نام ہیں۔ امام بارگاہ کے نام پر 17 ہزار اور مدارس کے نام پر 14 ہزار جائیدادیں ہیں۔ قریباً 34 ہزار مقبرے اور درگاہیں ہیں۔
تقریباً 1 لاکھ 13 ہزار جائیدادیں اور کاروباری اہمیت کے 92 ہزار مکانات ہیں۔ جبکہ تقریباً 1 لاکھ 40,000 جائیدادیں زرعی اراضی ہیں۔
وقف اراضی کے معاملے پر وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا تھا کہ ’1913 سے 2013 تک، وقف بورڈ کی کل زمین 18 لاکھ ایکڑ تھی، جس میں 2013 سے 2025 کے درمیان 21 لاکھ ایکڑ کا اضافہ ہوا ہے۔‘
’اس 39 لاکھ ایکڑ اراضی میں سے 21 لاکھ ایکڑ زمین 2013 کے بعد کی ہے۔ لیز پر دی گئی جائیدادیں 20 ہزار تھیں لیکن ریکارڈ کے مطابق 2025 میں یہ جائیدادیں صفر ہو گئیں۔ یہ جائیدادیں فروخت ہو گئیں۔‘
SOURCE : BBC