SOURCE :- BBC NEWS

سیم آلٹ مین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

  • مصنف, چیریلن مولن
  • عہدہ, بی بی سی نیوز، ممبئی
  • ایک گھنٹہ قبل

انڈیا کرکٹ کا دیوانہ ملک ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی نے اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا ہے لہٰذا جب اس کے بانی سیم آلٹمین نے اسے یہ کمانڈ دی کہ ‘سیم آلٹمین ایک کرکٹ کھلاڑی کے طور پر اینیمیشن سٹائل میں دکھاؤ’ تو بوٹ نے فوری طور پر ایک تصویر تیار کی جس میں آلٹمین نیلے رنگ کی انڈیا جرسی میں بیٹ تھامے ہوئے ہیں۔

آلٹمین نے جمعرات کے روز ایکس پر اپنے انیمیمیشن کرکٹر اوتار کو شیئر کیا جس نے انڈین سوشل میڈیا صارفین کو حیران کردیا۔

اگرچہ ٹیکنالوجی کی دنیا کی ارب پتی شخصیت سیم نے پچھلے ہفتے وائرل سٹوڈیو گھیبلی ٹرینڈ میں شامل ہونے سے پہلے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر بھی شیئر کی تھیں لیکن اس مرتبہ یہ انڈین جرسی تھی جس نے لوگوں کو اس بارے میں بات کرنے پر مجبور کیا۔

جہاں کچھ انڈین صارفین کا کہنا تھا کہ وہ آلٹمین کو اپنی ٹیم کے رنگوں میں دیکھ کر خوش ہیں وہیں بہت سے لوگوں نے اس تصویر کو شیئر کرنے کے پیچھے ان کے مقاصد کے بارے میں قیاس آرائیاں کی ہیں۔

ایک صارف کا کہنا تھا کہ سم انڈین صارفین کو راغب کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

ایک اور صارف نے حال ہی میں آلٹ مین کی طرف سے اپنی فرم اوپن اے آئی جو چیٹ جی پی ٹی کی مالک ہے کے لیے حاصل کردہ ریکارڈ فنڈنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ‘اب آپ کے انڈیا کے لیے اعلان کا انتظار ہے۔ آپ اس چار ارب ڈالر میں سے کتنا انڈیا کے لیے مختص کر رہے ہیں۔’

مصنوعی ذہانت

،تصویر کا ذریعہSam Altman/Twitter

ایک اور صارف نے آلٹمین کی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹس میں نظر آنے والے پیٹرن کو الفاظ میں بیان کیا اور ایک ایسا سوال جو بہت سے انڈین صارفین کے ذہنوں میں ہے۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انھوں نے کہا کہ ‘گذشتہ چند دنوں سے آپ انڈیا اور انڈین صارفین کی بہت تعریف کر رہے ہیں۔ انڈیا کے لیے یہ اچانک محبت کیسے پیدا ہوئی؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پردے کے پیچھے کچھ گہری حکمت عملی چل رہی ہے۔’

اگرچہ یہ تبصرہ تھوڑا سا سازشی لگ سکتا ہے لیکن اس کے کم از کم کچھ حصے میں کسی حد تک سچائی ہے۔

آلٹمین کی کرکٹ جرسی میں اپنی تصویر شیئر کرنے سے چند گھنٹے قبل انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انڈیا کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی تعریف کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنے میں حیرت انگیز ہے اور یہ دنیا کو پیچھے چھوڑ رہا ہے۔

یہ پوسٹ انڈیا میں بھی وائرل ہوئی جبکہ میڈیا نے اس پر صارفین کے رد عمل پر متعدد کہانیاں لکھیں۔ یہاں تک کہ کسی نے ریڈٹ تھریڈ بھی شروع کیا جس نے کافی مزاحیہ انداز میں ریڈائٹر کے تجسس اور شاید الجھن کو ظاہر کیا۔

ریڈٹ پر آلٹ مین کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے اس شخص نے لکھا کہ ‘کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ سیم آلٹمین اپنے ٹویٹ میں کس بارے میں بات کر رہے ہیں؟’

چند روز قبل آلٹمین نے وزیر اعظم نریندر مودی کی سٹوڈیو گھیبلی طرز کی تصاویر کو ری ٹویٹ کیا تھا جو وفاقی حکومت کے سٹیزن انگیجمنٹ پلیٹ فارم نے شیئر کی تھیں۔

آلٹمین کی ان تمام پوسٹوں پر ان کے مقاصد پر سوال اٹھاتے ہوئے کافی تبصرے کیے گئے ہیں۔

آلٹمین کی جانب سے انڈیا کے بارے میں پوسٹوں پر شکوک و شبہات کی وجہ ملک کی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کے بارے میں ان کے ماضی کے خیالات ہوسکتے ہیں۔

سیم آلٹمین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 2023 میں ایک دورے کے دوران انھوں نے مصنوعی ذہانت کے ٹولز بنانے والے چھوٹے انڈین سٹارٹ اپس کو تقریبا مسترد کر دیا تھا جو اوپن اے آئی کی تخلیقات کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

ایک تقریب میں جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک کروڑ ڈالر کے کم بجٹ کے ساتھ ایک چھوٹی اور سمارٹ ٹیم مصنوعی ذہانت کے بنیادی ماڈل کیسے بنا سکتی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ اس کی کوشش کرنا ‘مکمل طور پر مایوس کن’ ہوگا لیکن کاروباری افراد کو بہرحال کوشش کرنی چاہیے۔

لیکن جب آلٹمین نے اس سال دوبارہ انڈیا کا دورہ کیا تو انھوں نے اپنا لہجہ بدل لیا تھا۔

فروری میں وفاقی وزیر اشونی ویشنو کے ساتھ ایک ملاقات میں آلٹمین نے کم قیمت مصنوعی ذہانت کے ماڈل بنانے پر انڈیا کے ساتھ تعاون کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی تیز رفتار رفتار کے لیے انڈیا کی تعریف کی اور انکشاف کیا کہ ملک اوپن اے آئی کی دوسری سب سے بڑی مارکیٹ ہے، جس کے صارفین میں گذشتہ ایک سال کے دوران تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

مصنوعی ذہانت

،تصویر کا ذریعہMyGovIndia/Twitter

یہ تعریف ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ان کی کمپنی اپنے مواد کے مبینہ غیر مجاز استعمال پر انڈیا کی کچھ بڑی نیوز میڈیا کمپنیوں کے ساتھ قانونی لڑائی میں الجھی ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آلٹ مین کی انڈیا کے لیے بظاہر نئی وابستگی کا تعلق مارکیٹ کے طور پر ملک کے منافع سے ہوسکتا ہے۔

انٹرنیشنل ٹریڈ ایڈمنسٹریشن کے مطابق انڈیا میں مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ 2025 تک آٹھ ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 2020 سے 2025 تک 40 فیصد سے زیادہ کی کمپاؤنڈ سالانہ شرح نمو سے بڑھ رہی ہے۔

ٹیکنالوجی پالیسی ویب سائٹ میڈیا نامہ ڈاٹ کام کے بانی ایڈیٹر نکھل پاہوا کا کہنا ہے کہ جب مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کے بانیوں کے انڈیا کے بارے میں ‘عظیم بیانات’ دینے کی بات آتی ہے، تو اس کا تعلق ملک میں بڑے پیمانے پر موجود صارفین سے ہے۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ آلٹ مین انڈیا کو راغب کرنے والے واحد سی ای او نہیں ہیں۔

جنوری میں اے آئی سرچ انجن پرپلیکسٹی کے بانی اروند سرینواس نے بھی انڈین اے آئی سٹارٹ اپس کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

سرینواس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ ہر ہفتے ابپنے وقت میں سے پانچ گھنٹے اور 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ ‘مصنوعی ذہانت کے تناظر میں انڈیا کو دوبارہ عظیم بنایا جاسکے۔

ٹیکنالوجی رائٹر پرشانتو کے رائے کا ماننا ہے کہ گِبلی ٹرینڈ سے پتا چلتا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی اور ممکنہ طور پر دیگر مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز کے لیے انڈیا میں بڑے پیمانے پر ممکنہ صارفین ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ جیمنی اور گروک جیسے حریف مصنوعی ذہانت کے ماڈلز تیزی سے انڈین صارفین حاصل کر رہے ہیں، آلٹمین اپنی فرم کے موجودہ صارفین کو برقرار رکھنے اور نئی خدمات حاصل کرنے کے خواہاں ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘انڈیا تمام عالمی مصنوعی ذہانت کے بنیادی ماڈلز کے لیے ایک بہت بڑا کلائنٹ بیس ہے اور چیٹ جی پی ٹی کو بہت سستے ڈیپ سیک اے آئی کی طرف سے چیلنج کیا جارہا ہے، آلٹمین ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ انڈین صارفین کو حاصل کرنے اور انڈین ڈویلپرز کو اوپن اے آئی کی سروسز بنانے کے لیے مثبت طور پر منسلک رکھنے کا خواہاں ہے۔’

وہ کہتے ہیں’لہٰذا جب انڈیا کے لیے ایسی عظیم الشان پیش رفتوں کی بات آتی ہے تو کوئی حقیقی محبت نہیں ہوتی۔ یہ صرف کاروبار ہے۔’

SOURCE : BBC