SOURCE :- BBC NEWS

- مصنف, میگھا موہن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
-
5 منٹ قبل
انڈیا کی ریاست تمل ناڈو میں سریجا وہ پہلی ٹرانس جینڈر خاتون تھیں جنھیں سنہ 2019 میں ایک تاریخی عدالتی فیصلے کے بعد قانونی طور پر شادی کرنے کی اجازت ملی تھی۔
اب وہ ’اماز پرائڈ‘ یعنی ’ماں کا فخر‘ کے نام سے ایک دستاویزی فلم میں اپنی والدہ والی کی ان کے لیے غیر مشروط حمایت اور اپنی شادی کو قانونی شکل دینے کی جدوجہد کو بیان کرنے جا رہی ہیں۔
سریجا کی 45 سالہ والدہ والی نے انھیں گلے لگاتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان کی بیٹی قدرت کا تحفہ ہیں۔‘
سریجا ریاست تمل ناڈو کے ساحلی شہر توتھوکوڈی میں رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میری تعلیم، میری شادی، میری ملازمت سب کچھ میری ماں کی حمایت اور مدد سے ہی ممکن ہوئی۔‘
25 سالہ سریجا کہتی ہیں کہ ’میں جانتی ہوں کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ تمام ٹرانس افراد کے پاس نہیں ہوتا۔‘
’میں ہمیشہ اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑی رہوں گی‘
سریجا اپنے ہونے والے شوہر ارون سے سنہ 2017 میں ایک مندر میں ملی تھیں۔ ان کے دوست بھی مشترکہ تھے لہذا یہ ملاقات جلد ہی آشنائی میں بدل گئی اور ان دونوں نے ایک دوسرے سے ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے رابطہ شروع کر دیا۔ وہ روزانہ ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے بات چیت کرتے۔
سریجا پہلے ہی بطور ٹرانس جینڈر کے جانی جاتی تھی اب انھوں نے اپنی شناخت میں تبدیلی کے عمل کا آغاز شروع کر دیا تھا۔
ارون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم بہت باتیں کرتے تھے، اس نے مجھ سے بطور ایک ٹرانس خاتون کے اپنے تجربات اور جذبات بتائے۔‘
کچھ ہی مہینوں میں دونوں کو پیار ہو گیا اور انھوں نے زندگی ایک ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا۔
سریجا کہتی ہیں کہ ’ہم اس رشتے کی قانونی شناخت چاہتے تھے کیونکہ ہم کسی بھی اور جوڑے کی طرح ایک عام زندگی جینا چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہChithra Jeyaram/ BBC

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم تمام معاشرتی تحفظت ضمانتیں چاہتے تھے جو ایک قانونی شادی سے حاصل ہوتی تھی۔‘
جن میں کسی ایک کی موت کی صورت میں دوسرے کو پیسے اور پراپرٹی کی منتقل کا تحفظ بھی شامل ہے۔
سنہ 2014 میں انڈین سپریم کورٹ نے ایک مقدمے کے فیصلے میں ٹرانس جینڈر افراد کے چند حقوق کا تحفظ یقینی بنایا تھا جس میں انھیں تعلیم، ملازمت، صحت کی سہولیات اور شادی کا یکساں حق دیا گیا تھا۔ البتہ انڈین معاشرے میں اب بھی ہم جنس شادیوں کی اجازت نہیں۔
اس بارے میں کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں کہ انڈیا میں کتنے ٹرانس جوڑوں نے شادیاں کں ہیں یا سب سے پہلے کس نے شادی کی تھی۔
سماجی کارکنوں اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ سریجا اور ارون کی قانونی طور پر شادی رجسٹر ہونے سے قبل کم از کم ایک ٹرانس جوڑے کی شادی قانونی طور پر رجسٹر ہوئی تھی۔ سنہ 2018 میں بینگلور کے ایک جوڑے نے شادی کی تھی۔
اماز پرائڈ دستاویزی فلم کے ڈائریکٹر شیوا کرش کا کہنا ہے کہ ’یقیناً بہت سے دیگر ہم جنس جوڑے یا ٹرانس جینڈر جوڑے ہیں لیکن مسلسل امتیازی سلوک کے باعث کچھ نے اپنے رشتوں کو خفیہ رکھا۔ سریجا، ارون اور والی ہی انوکھے ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کھلے عام جینے کا فیصلہ کیا۔‘
سریجا اور ارون نے سنہ 2018 میں اپنی شادی کو رجسٹر کروانے کی کوشش کی تھی لیکن اس وقت اسے رجسٹرار نے 1955 کے ہندو میرج ایکٹ کے تحت رد کر دیا تھا۔ میرج رجسٹرار کا کہنا تھا کہ یہ قانون ’دولہا‘ اور ’دلہن‘ کے درمیان شادی کو ماتنا ہے اور ٹرانس جینڈرز اس قانون کے تحت شادی نہیں کر سکتے۔
لیکن جوڑے کو ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے کارکنوں کی حمایت حاصل تھی جس نے انھیں یہ ہمت دی کہ وہ اپنے حق کے لیے لڑیں اور اپنے رشتے کو سرعام ظاہر کریں۔
ان کی یہ کوشش رنگ لے آئی اور سنہ 2019 میں انھیں عالمی سطح پر اس وقت توجہ ملی جب چنئی میں مدراس ہائی کورٹ نے ان کے شادی کرنے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ 1955 کے ہندو میرج ایکٹ میں ٹرانس جینڈر افراد کو بھی دولہا اور دلہن کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
اس عدالتی فیصلے کو ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے انڈیا میں ٹرانس جینڈر افراد کو تسلیم کیے جانے کے لیے بہت اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا۔
اس کے ساتھ ساتھ سریجا اور ارون کو مقامی طور پر معاشرے کی روایات کو چیلنج کرنے والے جوڑے کے طور پر دیکھا گیا مگر ان کی بے تحاشہ میڈیا کوریج نے کچھ منفی ردعمل کو جنم دیا۔
ارون کہتے ہیں کہ ’جس دن مقامی میڈیا میں ہمارے متعلق خبریں شائع ہوئی اس کے اگلے ہی دن مجھے ملازمت سے نکال دیا گیا۔‘
ارون ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک مزدور کے طور پر کام کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ معاشرے میں موجود ٹرانس فوبیا تھی۔
اس کے بعد ان کی آن لائن ٹرولنگ بھی ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے گالیوں بھرے پیغامات بھیجے، ایک ٹرانس خاتون سے شادی کرنے پر مجھ پر تنقید اور لعن طعن کی گئی۔
اس دباؤ کے نتیجے میں دونوں میں کچھ دیر کے لیے علیحدگی ہو گئی مگر اس سب کے باوجود سریجا نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور خوب محنت کی۔
انھوں نے تمل ناڈو کی ایک یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ڈگری مکمل کی اور وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی اپنے خاندان کی پہلی فرد تھیں۔
یہ ان کی والدہ کے لیے بہت فخر کا موقع تھا کیونکہ انھوں نے خود 14 برس کی عمر میں سکول چھوڑ دیا تھا۔
سریجا اور ان کے خاندان کو ان کی شادی کی قانونی شناخت حاصل کرنے کی جدوجہد سے پہلے بھی لوگوں کی طرف سے تنقید اور برے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
سریجا نے 17 برس کی عمر میں اپنی شناخت ایک ٹرانس خاتون کے طور پر ظاہر کی تھی، اس وقت انھیں، ان کے چھوٹے بھائی اور والدہ کو ان کی مکان مالک نے گھر سے نکال دیا تھا۔
خاندان کے بہت سے لوگوں نے ان سے بات کرنا بند کر دی تھی لیکن سریجا کی والدہ اور ان کا بھائی ان کے ساتھ کھڑے رہے۔
ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ میں ہمیشہ اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑی رہوں گی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’تمام ٹرانس لوگوں کے خاندان والوں کو ان کی حمایت کرنی چاہیے۔‘
جب سریجا چھ برس کی تھیں تو ان کے والد کے انتقال کے بعد والی سنگل مدر بن گئی تھیں۔ وہ ایک سکول کے کچن میں کام کرتی ہیں۔
لیکن کم آمدن کے باوجود انھوں نے اپنی بیٹی کی جنسی شناخت کی تبدیلی کے عمل کے لیے پیسے دیے تھے اور اس کے لیے انھوں نے اپنے کچھ زیورات بیچے تھے۔
سریجا کہتی ہیں کہ ’وہ میرا بہت خیال رکھتی ہیں۔‘

’امید ہے سوچ میں تبدیلی آئے گی‘
دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے ملک انڈیا میں ایک اندازے کے مطابق قریب 20 لاکھ ٹرانس جینڈر ہیں مگر سماجی کارکنان کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
ملک میں ٹرانس جینڈر برادری کے حق میں کئی قوانین منظور کیے گئے اور انھیں ’تیسری صنف‘ تسلیم کیا گیا تاہم ملک میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک اب بھی موجود ہے۔
مطالعوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انڈیا میں ٹرانس جینڈر افراد تشدد، ذہنی صحت کے مسائل، تعلیم تک محدود رسائی، روزگار اور طبی مدد جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ کئی بھیک مانگنے یا سیکس کا کام کرنے پر مجبور ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بھی کئی ٹرانس جینڈر افراد کو اپنے خاندانوں سے بے دخل کیا جاتا ہے۔
فلمساز شیوا کرش کا کہنا ہے کہ ’انڈیا یا دنیا بھر میں ایسے کم ہی ٹرانس جینڈر ہیں جنھیں اپنے خاندانوں کی حمایت حاصل ہو۔‘
سریجا کو امید ہے کہ اس فلم سے ٹرانس جینڈر افراد کو لے کر غلط نظریات اور میڈیا میں شائع ہونے والی ایسی مخصوص کہانیوں کو چیلنج کیا جا سکے گا جن میں اکثر استحصال یا صدمے کو ظاہر کیا جاتا ہے۔
’اس دستاویزی فلم میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہم رہنما بن سکتے ہیں۔ میں مینیجر ہوں، ورک فورس کا کلیدی رکن ہوں۔‘
’جب لوگ ٹرانس افراد کے بارے میں مختلف کہانیاں دیکھیں گے تو امید ہے ان کی ذہنیت تبدیل ہو جائے گی۔‘
’میں جلد دادی بننا چاہتی ہوں‘
انٹرنیشنل فلم فیسٹیول پر پریمیئر کے بعد اماز پرائیڈ کی چنائی میں ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے لیے خصوصی سکریننگ کی گئی۔ اس کے بعد شرکا نے اس بارے میں تبادلہ خیال کیا۔
فلمساز چتھرا جیرام نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے سکریننگ سے ٹرانس افراد، ان کے خاندانوں اور مقامی برادریوں کے بیچ تعاون بڑھے گا۔‘
اس فلم کی پروڈکشن ٹیم کو امید ہے کہ خاندانی حمایت کا مسئلہ اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اس دستاویزی فلم کی سکریننگ اور ورکشاپس کو دیہی علاقوں میں بھی متعقد کیا جاسکتا ہے۔جبکہ اسے ہمسایہ ممالک نیپال اور بنگلہ دیش میں بھی دکھایا جاسکتا ہے۔
سریجا اور ارون اب نجی کمپنیوں میں بطور مینیجر کام کرتے ہیں اور جلد ایک بچے کو گود لینے والے ہیں۔ سریجا نے کہا کہ انھیں ایک نارمل مستقبل کی امید ہے۔
والی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’میں جلد نانی بننا چاہتی ہوں۔‘
SOURCE : BBC