SOURCE :- BBC NEWS

ٹرمپ، مودی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

  • مصنف, سوتک بسواس
  • عہدہ, نامہ نگار برائے انڈیا، بی بی سی
  • 41 منٹ قبل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے پیمانے پر ٹیرف (ٹیکس) کے اعلان نے عالمی تجارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ رکاوٹ اکثر مواقع پیدا کرتی ہے۔

صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد نو اپریل سے انڈین اشیا کو 27 فیصد تک کے ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا (ٹرمپ کے ٹیرف چارٹ میں انڈیا کی شرح 26 فیصد درج ہے لیکن سرکاری حکمنامے کے مطابق یہ 27 فیصد ہے- یہ فرق دیگر ممالک کے لیے بھی دیکھا جاتا ہے)۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹیرف میں اضافے سے پہلے انڈیا کے 17 فیصد کے مقابلے میں تجارتی شراکت داروں پر امریکی شرح اوسطاً 3.3 فیصد تھی جو عالمی سطح پر سب سے کم تھی۔

دہلی کے تھنک ٹینک گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو (جی ٹی آر آئی) کے مطابق امریکہ کی جانب سے چین (54 فیصد)، ویتنام (46 فیصد)، تھائی لینڈ (36 فیصد) اور بنگلہ دیش (37 فیصد) پر انڈیا سے بھی زیادہ شرح سے محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کا نتیجہ اس کے لیے ٹیکسٹائل، الیکٹرانکس اور مشینری کے میدان میں نیا موقع بھی ہے۔

چینی اور بنگلہ دیشی برآمدات پر زیادہ محصولات انڈین ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے لیے امریکی مارکیٹ میں مزید جگہ بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اگرچہ تائیوان سیمی کنڈکٹرز کی مارکیٹ میں سب سے آگے ہے تاہم اگر انڈیا انفراسٹرکچر اور پالیسی سپورٹ کو بہتر بنائے تو پیکیجنگ، ٹیسٹنگ اور لوئر اینڈ چپ مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں جگہ بنا سکتا ہے۔

تائیوان پر لگنے والے 32 فیصد ٹیکس کے نتیجے میں اگر سپلائی چین میں معمولی تبدیلی بھی آتی ہے تو یہ انڈیا کے حق میں کام کر سکتی ہے۔

وہ مشینری ہو آٹوموبائل یا کھلونے، ٹیرف کے نفاذ کے بعد یہ شعبے چین اور تھائی لینڈ سے نقل مکانی کے لیے تیار ہیں۔ جی ٹی آر آئی کے ایک نوٹ کے مطابق انڈیا سرمایہ کاری کو راغب کر کے، پیداوار کو بڑھا کر اور امریکہ کو برآمدات کو بڑھا کر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

لیکن کیا انڈیا اس لمحے سے فائدہ اٹھا سکے گا؟

زیادہ ٹیرف نے عالمی ’ویلیو چین‘ پر انحصار کرنے والی کمپنیوں کی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے بین الاقوامی منڈیوں میں انڈیا کی مسابقت کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی برآمدات کے باوجود جو کہ بنیادی طور پر خدمات کی شکل میں ہیں، انڈیا قابلِ ذکر تجارتی خسارے کا شکار ہے۔

عالمی برآمدات میں انڈیا کا حصہ محض ڈیڑھ فیصد ہے۔ ٹرمپ نے بار بار انڈیا کو ’ٹیرف کنگ‘ اور تجارتی تعلقات کا ’غلط استعمال کرنے والا‘ ملک قرار دیا اور ان نئے محصولات کے بعد خدشہ ہے کہ انڈیا کی برآمدات کم مسابقتی ہو جائیں گی۔

 انڈین برآمدات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جی ٹی آر آئی کے سربراہ اجے شریواستو کا کہنا ہے کہ ’مجموعی طور پر امریکہ کا تحفظ پسند ٹیرف نظام انڈیا کے لیے ایک مہمیز کے طور پر کام کر سکتا ہے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’اس موقع سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کے لیے، انڈیا کو آسانی سے کاروبار کرنے کے مواقع کو بڑھانا چاہیے، لاجسٹکس اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے اور پالیسی کو مستحکم رکھنا چاہیے۔ اگر یہ شرائط پوری ہو جاتی ہیں، تو انڈیا آنے والے برسوں میں ایک اہم عالمی پیداواری اور برآمدی مرکز بننے کے لیے اچھی پوزیشن میں ہے۔‘

لیکن یہ کہنا کرنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔

دہلی میں قائم تھنک ٹینک کونسل فار سوشل ڈیولپمنٹ کے تجارتی ماہر بسواجیت دھر سمجھتے ہیں کہ ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک ممکنہ طور پر انڈیا سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔

’اب جبکہ بنگلہ دیش کو زیادہ ٹیرف کا سامنا ہے، ہم اب سلے ہوئے کپڑوں کے شعبے میں کچھ جگہ دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس شعبے کو ایک ڈھلتا ہوا شعبہ سمجھا ہے اور اس میں سرمایہ کاری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘

انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’صلاحیت بڑھائے بغیر، ہم ٹیرف میں آنے والی ان تبدیلیوں سے صحیح معنوں میں کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟‘

فروری کے بعد سے انڈیا نے ٹرمپ کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس نے امریکی توانائی کی درآمدات کے حوالے سے 25 ارب ڈالر کا وعدہ کیا، واشنگٹن کو ایک اہم دفاعی سپلائر کے طور پر پیش کیا اور ایف 35 لڑاکا طیاروں کے سودوں کی بات کی گئی۔

تجارتی تناؤ کو کم کرنے کے لیے انڈیا نے چھ فیصد ڈیجیٹل اشتہاری ٹیکس ختم کر دیا، بوربن وہسکی کے ٹیرف کو 150 فیصد سے کم کر کے 100 فیصد کر دیا اور لگژری کاروں اور سولر سیلز پر ڈیوٹی کم کر دی۔ دریں اثنا، ایلون مسک کا سٹار لنک حتمی منظوری کے قریب ہے اور دونوں ممالک نے انڈیا کے ساتھ امریکہ کے 45 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے وسیع تجارتی مذاکرات کا آغاز کیا۔

اس کے باوجود انڈیا محصول کی جنگ سے نہیں بچ سکا۔

انڈین انسٹیٹیوٹ آف فارن ٹریڈ میں سینٹر فار ڈبلیو ٹی او سٹڈیز کے سابق سربراہ ابھیجیت داس کہتے ہیں ’انڈیا کو فکر مند ہونا چاہیے۔ امید تھی کہ جاری تجارتی مذاکرات اسے باہمی محصولات سے بچائیں گے مگر اس ٹیرف کا سامنا کرنا سنگین دھچکا ہے۔‘

ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہReuters

ایک امید کی کرن دواسازی کو باہمی ٹیرف سے استثنیٰ حاصل ہونا ہے، جو انڈیا کےعام ادویات بنانے والوں کے لیے ایک بہتر چیز ہے۔ انڈیا امریکہ میں تمام عام دوائیوں کا تقریباً نصف فراہم کرتا ہے۔

تاہم الیکٹرانکس، انجینئرنگ کے سامان، آٹوموبائل پارٹس، صنعتی مشینیں اور سمندری مصنوعات جیسے اہم شعبوں کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے انڈیا کی فلیگ شپ ’پیداوار سے منسلک مراعات‘ کے منصوبوں کے ذریعے ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کے پیش نظر یہ الیکٹرانکس کے شعبے کے لیے خاص طور پر پریشان کن ہوگا۔

تجارتی ماہر بسواجیت دھر کہتے ہیں کہ ’میں اپنے برآمد کنندگان کی صلاحیت کے بارے میں پریشان ہوں جن میں بہت سے چھوٹے پیداواری یونٹ ہیں جو 27 فیصد ٹیرف کو جذب کرنے کے سلسلے میں جدوجہد کریں گے اور یہ انھیں غیر مسابقتی بنا دے گا۔ زیادہ لاجسٹک اخراجات، بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات اور بگڑتا ہوا تجارتی ڈھانچہ صرف چیلنج میں اضافہ کرتا ہے۔ ہم ایک بڑے نقصان سے شروعات کر رہے ہیں۔‘

بہت سے لوگ ان محصولات کو انڈیا کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں ٹرمپ کی سودے بازی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ امریکی تجارتی نمائندے کی تازہ ترین رپورٹ انڈیا کی تجارتی پالیسیوں سے واشنگٹن کی مایوسی کو واضح کرتی ہے۔

پیر کو جاری کی گئی رپورٹ میں ڈیری، سور کے گوشت اور مچھلی پر انڈیا کے سخت درآمدی قوانین کے بارے میں بات کی گئی۔ یہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مصنوعات اور سٹنٹس اور امپلانٹس پر قیمت کی حد کے لیے انڈیا میں منظوری کے سست عمل پر بھی تنقید کرتا ہے۔

دانشورانہ املاک کے خدشات نے بھی انڈیا کو ’ترجیحی واچ لسٹ‘ میں ڈال دیا، جس کے لیے رپورٹ کمزور پیٹنٹ تحفظات اور تجارتی خفیہ قوانین کی کمی کا حوالہ دیتی ہے۔ رپورٹ میں ڈیٹا لوکلائزیشن مینڈیٹ اور محدود سیٹلائٹ پالیسیوں کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جس سے تجارتی تعلقات مزید کشیدہ ہو رہے ہیں۔

واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ انڈیا کا ریگولیٹری نقطہ نظر چین کے نظام کی عکاسی کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اگر یہ رکاوٹیں ہٹا دی جائیں تو امریکی برآمدات میں سالانہ کم از کم پانچ ارب 30 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

بسواجیت دھر کہتے ہیں کہ ’اس سے بدتر وقت نہیں ہو سکتا اور تجارتی مذاکرات کے درمیان ہونا ہمارے نقصان کو مزید بڑھاتا ہے۔ یہ صرف مارکیٹ تک رسائی کے بارے میں نہیں۔ یہ پورا پیکیج ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ویتنام یا چین پر برتری حاصل کرنا راتوں رات نہیں ہو سکتا کیونکہ مواقع پیدا کرنے اور مسابقتی طاقت بننے میں وقت لگتا ہے۔‘

SOURCE : BBC