SOURCE :- BBC NEWS

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, تنویر ملک
- عہدہ, صحافی
-
4 اپريل 2025، 08:24 PKT
اپ ڈیٹ کی گئی 6 گھنٹے قبل
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں7.41 روپے فی یونٹ اور صنعتی صارفین کے لیے 7.59 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا۔
جمعرات کے روز وزیر اعظم پاکستان نے ایک تقریب میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ اس کے لیے آئی ایم ایف کو قائل کرنا مشکل تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتیں کم کرنے سے انکار کیا تھا۔ ہم نے کہا ہم تیل کی قیمت میں کمی کو استعمال کر رہے ہیں، کوئی سبسڈی نہیں دے رہے۔ آئی ایم ایف بالآخر قائل ہوا۔‘
واضح رہے کہ مارچ کے وسط میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد حکومت کی جانب سے ملک میں تیل کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی تھی اور حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آئندہ چند روز میں عوام کو بجلی کی قیمتوں میں کمی کا تحفہ دیا جائے گا۔
پاکستان میں گزشتہ تین سال میں بجلی کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا جس کی وجہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ تھا اور اس میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے حکومت کو آئی ایم ایف شرائط کے تحت بجلی کی قیمتیں بڑھانا پڑیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بجلی کی قیمت میں کتنی کمی ہوئی؟
حکومتی اعلان کے مطابق جون 2024 میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 48.70 روپے تھی جو اس وقت 45.05 روپے فی یونٹ ہے، اس طرح جون 2024 سے لے کر اب تک اس میں 3.5 روپے کی کمی ہوئی۔
حکومت کے مطابق اب گھریلو صارفین کے لیے مزید 7.41 روپے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے جس کے بعد گھریلو صارفین کو بجلی 34.37 روپے فی یونٹ میں فراہم کی جائے گی۔
اسی طرح جون 2024 میں صنعتوں کے لیے فی یونٹ بجلی کی قیمت 58.50 روپے تھی جس میں اب تک 10.30 روپے فی یونٹ کمی کی گئی جو 48.19 روپے فی یونٹ تک پہنچی اور اب حکومت کے مطابق اس میں مزید 7.59 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے۔
بجلی کی قیمت میں یہ کمی ممکن کیسے ہوئی؟
بجلی کی قیمت میں کمی کے بارے میں ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ ایسا اچانک ممکن نہیں ہوا بلکہ اس کے پس پردہ توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیشرفت ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے ہو رہی تھی جس میں بجلی بنانے والے کارخانوں یعنی آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی، ان کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی کی ری شیڈولنگ اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافہ ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہر راو عامر علی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’اس کمی کے پس پردہ کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی میں کمی کے لیے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی نے بھی کردار ادا کیا۔ حکومت کی جانب سے نوے کی دہائی اور موجودہ صدی کے شروع میں پاور پالیسی کے تحت لگنے والے بجلی کے پلانٹس تھے جنھیں کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی ہو رہی تھی، ان کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کی گئی۔‘
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ سال اکتوبر اور دسمبر اور موجودہ سال کے جنوری کے مہینے میں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عامر علی نے بتایا کہ ’حکومت کی جانب سے ڈیزل اور پیٹرول پر گزشتہ مہینے پٹرولیم لیوی بڑھا دی گئی جس سے حکومت کو مالی سپیس ملی کیونکہ اس لیوی کے بڑھنے سے حکومت کو اضافی ریونیو ملے گا اور حکومت اس طرح اپنی مالیاتی پوزیشن کو مستحکم کر پائے گی تاکہ بجلی کی قیمت میں کمی سے اس کے مالیاتی ڈسپلن پر کوئی اثر نہ پڑے۔‘
پاکستان انسٹیٹوٹ آف ڈویلپمنٹ آٖف اکنامکس میں توانائی کے شعبے کی ماہر ڈاکٹر عافیہ ملک نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی کے لیے معاہدوں پر نظر ثانی کی وجہ سے حکومت کو گنجائش ملی کہ وہ بجلی کی قیمت میں کمی کر سکے تاہم سب سے اہم چیز حکومت کا نیو کلیئر پاور پلانٹس اور سی پیک پلانٹس کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی ہے جس کے تحت ان پاور پلاٹنس میں قرضے کے حصے کی ری شیڈولنگ ہے یعنی جو قرضے دس سال میں ادا کرنے تھے وہ اب پندرہ سال میں ادا ہوں گے جس نے حکومت کو مالی گنجائش فراہم کی۔‘
انھوں نے پٹرولیم لیوی کے بڑھانے کو بھی بجلی کی قیمت میں کمی کا وجہ قرار دیا جس کا ریلیف بجلی صارفین کو فراہم کیا گیا۔
آپ کے بِل میں کتنی کمی ہوگی؟
بجلی صارفین کے لیے مختلف سلیبز میں الگ الگ کمی کی گئی ہے جس کا اوسط 7.41 روپے فی یونٹ بنتا ہے۔
وفاقی پاور ڈویژن کی جانب سے مختلف سلیب کے لیے کمی کی تفصیلات کے مطابق:
- 50 یونٹس اور 51 سے 100 یونٹس تک استعمال کرنے والے لائف لائن صارفین کے بجلی کے ٹیرف میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔
- ایک سے سو یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکڈڈ صارفین کے بجلی کے بل میں 6.14 روپے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے۔ اس کمی کے بعد ان صارفین کے لیے بجلی کا فی یونٹ 14.67 روپے سے کم ہو کر 8.53 فی یونٹ ہو گیا ہے
- 101 سے 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکڈڈ صارفین کے بجلی کے بل میں 6.14 روپے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے جس کے بعد ان صارفین کو فی یونٹ 11.51 روپے ادا کرنے ہوں گے جو پہلے 17.65 روپے ادا کر رہے تھے
- تین سو یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بجلی کے بل میں 7.24 روپے فی یونٹ کی کمی کی گئی ہے اور ان صارفین کو اب 41.26 روپے فی یونٹ کی بجائے 34.03 فی یونٹ ادا کرنے ہوں گے
- کمرشل صارفین کے لیے بجلی کے فی یونٹ میں 8.58 روپے کی کمی کی گئی ہے۔ زرعی اور بلک صارفین کے لیے بجلی کے بل میں 7.18 روپے کی کمی کی گئی ہے
مثال کے طور پر اگر گھریلو صارفین 200 یونٹ کے استعمال پر پہلے 9740 روپے ادا کر رہے تھے تو اب انھیں 7528 روپے ادا کرنے ہوں گے، یعنی 2212 روپے کی بچت، اسی طرح 300 یونٹ پر یہ بچت 3318 روپے بنتی ہے جبکہ 500 یونٹ پر 5530 روپے۔ اس اندازے کے مطابق گھریلو صارفین کے بجلی کے بل میں 22.7 فیصد تک کی بچت ہو سکتی ہے۔
کیا یہ کمی دیرپا ہو گی؟
وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمت میں کمی کیا طویل مدت تک برقرار رہے گی؟ اس سوال کے بارے میں ڈاکٹر عافیہ ملک نے بتایا کہ ’اس کمی کے شارٹ ٹرم سے میڈیم ٹرم تک چلنے کی امید ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس دوران حکومت دوسرے آئی پی پیز سے بھی معاہدوں پر نظر ثانی کر سکتی ہے تاکہ کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی میں مزید کمی ہو اور عوام کو اس ریلیف مل سکے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس کے ساتھ ملک میں بجلی کی مارکیٹ کی ترقی کی لیے بھی کوشش ہو رہی ہے تاکہ بجلی صارفین کو ایک سے زیادہ کمپنیوں سے بجلی خریدنے کی چوائس حاصل ہو سکے جس سے انھیں قیمت میں کچھ فائدہ ہو سکتا ہے۔‘
راو عامر علی نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’ریلیف شاید قلیل مدت کے لیے ہو اور اس کا دورانیہ چند مہینوں تک محدود ہو کیونکہ اگلے مالی سال کے لیے بجلی کا ٹیرف جب بنایا جائے گا تو پتا چلے گا کہ یہ کمی برقرار رہ پاتی ہے یا نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعظم پاکستان کے کو آرڈینیٹر رانا احسان افضل نے بی بی سی اردو کے رابطہ کرنے پربتایا کہ ’یہ ریلیف حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے اندر رہتے ہوئے دیا، جس سے نہ ملک کا مالی خسارہ بڑھے گا اور نہ ہی اس سے توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ بڑھے گا۔‘
انھوں نے بتایا یہ ریلیف طویل مدتی ہو گا اور مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔
رانا احسان نے بتایا کہ ’اس ریلیف کے لیے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کے ساتھ کچھ کے ساتھ معاہدے ختم کیے گئے تو دوسری جانب پاور پلانٹس پر گیس ٹیرف اور تیل مصنوعات پر پٹرولیم لیوی بڑھا کر مالی گنجائش نکالی گئی تاکہ عوام اور صنعتی شعبے کو بجلی کی قیمت میں ریلیف دیا جا سکے۔‘
SOURCE : BBC